نفسیاتی و اخلاقی رہنمائی: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس - پاکستان برانچ؛ ڈائریکٹر: المؤسسہ العلمیہ العصریہ (IPAMS))

جدید نفسیات نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ صرف کتابی ذہانت (IQ) انسان کی کامیابی کی ضامن نہیں ہے، بلکہ انسان کے کیریئر، خاندانی زندگی اور معاشرتی خوشحالی میں 80 فیصد کردار "جذباتی ذہانت" (EQ) کا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری نے واضح کیا ہے کہ اسلام نے چودہ سو سال قبل اپنے ماننے والوں کو جذباتی توازن اور اعلیٰ اخلاق کا کتنا خوبصورت نظام عطا فرمایا ہے۔

قوت کا اصل معیار: نبوی حکمت

رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ، إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ (طاقتور وہ نہیں جو پچھاڑ دے، بلکہ اصل طاقتور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے)۔ ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا کہ حلم، بردباری اور درگزر کرنا کمزوری نہیں بلکہ بلند ترین جذباتی شعور کا اظہار ہے۔

جذباتی ذہانت بڑھانے کے اسلامی اصول:

  • خود شناسی اور محاسبہ: اپنے احساسات، غصے اور باطنی میلانات کا جائزہ لینا۔
  • غصے اور دباؤ کا انتظام: غصے کے وقت اعوذ باللہ پڑھنا، پوزیشن تبدیل کرنا اور وضو کرنا جو اعصاب کو پرسکون کرتے ہیں۔
  • ہمدردی اور فہمِ جذبات: دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنا اور گھریلو و دفتری تعلقات میں کشیدگی کے بجائے نرمی اختیار کرنا۔