بیان و تحقیق: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: الرابطة العالمية لخريجي الأزهر – پاکستان برانچ، ڈائریکٹر: المؤسسة العلمية العصرية)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی رشد و ہدایت کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رسل مبعوث فرمائے اور ان پر صحیفے اور آسمانی کتب نازل فرمائیں۔ ان تمام کتب میں تورات، زبور اور انجیل کو خاص مقام حاصل تھا، لیکن خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل ہونے والا کلام — قرآنِ مجید و فرقانِ حمید — اپنے خصائص، اعجاز اور جامعیت میں تمام سابقہ صحائف پر فائق اور منفرد ہے۔
سابقہ کتب اور قرآنِ کریم کا امتیاز
حضور نبی اکرم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ مجھے تورات کے بدلے میں "سبع طوال" (طویل سورتیں) عطا کی گئیں، زبور کے بدلے میں "مئین" (سو آیات والی سورتیں)، انجیل کے بدلے میں "مثانی" عطا ہوئیں، اور مجھے "مفصل" (حجرات سے والناس تک کی سورتوں) کے ذریعے تمام انبیاء اور کتب پر خصوصی فضیلت بخشی گئی۔
اس فکر انگیز اور علمی بیان میں ڈاکٹر عزیر محمود الازہری نے قرآنِ مجید کے ان لازوال اسرار و معارف کو اجاگر کیا ہے جو قرآن کی تحریف سے حفاظت، اس کی عالمگیر فصاحت، اور اس کے دائمی پیغامِ امن و انسانیت کا بین ثبوت ہیں۔
اس فکر انگیز درس کے اہم علمی و فکری نکات:
- حفاظتِ الٰہی کا ابدی وعدہ: تورات اور انجیل کی حفاظت کی ذمہ داری ان کے متبعین پر ڈالی گئی تھی جبکہ قرآنِ کریم کی حفاظت کا ذمہ خود ربِ کائنات نے لیا: ﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ﴾۔
- عالمگیر اور دائمی شریعت: سابقہ کتب مخصوص اقوام اور محدود زمانے کے لیے تھیں، جبکہ قرآنِ مجید رہتی دنیا تک ہر خطے، نسل اور زمان کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
- حیرت انگیز اعجاز اور دلائل کی فصاحت: فصاحت و بلاغت اور عقلی و روحانی تسکین کا وہ معجزانہ اسلوب جو انسان کی فکر اور وجدان کو یکجا مطمئن کرتا ہے۔
یہ وڈیو فکرِ قرآن کے شائقین، طلبہ اور محققین کے لیے قرآنی فہم اور تقابلِ ادیان کی تفہیم کے لیے ایک بیش قیمت علمی تحفہ ہے۔