حکمتِ ابتلاء و فہمِ دین: ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری
(صدر: ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجوایٹس – پاکستان؛ رکن: اسلامی نظریاتی کونسل)
ایک پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر محمود الازہری سے یہ حساس اور تڑپا دینے والا سوال پوچھا کہ "آج امتِ مسلمہ اور عام انسان اتنی مشکلات اور مظالم کا شکار ہیں، تو آخر اللہ تعالیٰ کی مدد کیوں نہیں آ رہی؟" یہ وہ سوال ہے جو مصیبت کے وقت ہر دوسرے انسان کے ذہن میں گردش کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحبزادہ عزیر نے اس کا ایسا عالمانہ، حکیمانہ اور ایمان افروز جواب دیا جس نے سوچ کا زاویہ بدل دیا۔
آزمائش کی حقیقت اور سنتِ انبیاء:
ڈاکٹر عزیر نے واضح فرمایا کہ یہ دنیا جزا و سزا کا نہیں بلکہ آزمائش کا گھر ہے۔ حتیٰ کہ انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام پر ایسی سخت آزمائشیں آئیں کہ انہوں نے بھی پکارا: مَتَىٰ نَصْرُ اللَّهِ (اللہ کی مدد کب آئے گی؟)، جس پر ربِ کائنات نے تسلی دی: أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ (سن لو! بے شک اللہ کی مدد قریب ہے)۔ تاخیر ناراضگی کی علامت نہیں بلکہ حکمت کی دلیل ہے۔
اللہ کی مدد میں تاخیر کی الٰہی حکمتیں:
- کھوٹے اور کھرے کی پہچان: آزمائش انسان کے اندر سے منافقت، غرور اور سستی کو ختم کر کے اسے کندن بناتی ہے۔
- نصرتِ خداوندی کی شرائط: قرآن فرماتا ہے: إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ (اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا)۔ کیا ہم نے اپنے کردار، عدل اور اتحاد میں اللہ کی شریعت کو نافذ کیا؟
- وقت اور حکمت کا تقاضا: انسان جلد باز ہے اور فوری نتیجہ چاہتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر کائنات کے ہمہ گیر نظام کے تحت فیصلے فرماتی ہے۔
- دعا کی قبولیت کی صورتیں: بسا اوقات دعا کے بدلے میں کوئی بڑی بلا ٹال دی جاتی ہے یا آخرت کے لیے اجر جمع کر دیا جاتا ہے۔
حاصل کلام:
مایوسی کفر ہے اور تاریکی جتنی گہری ہو صبح اتنی ہی قریب ہوتی ہے۔ ہمیں شکوہ کرنے کے بجائے اپنا احتساب کرنا چاہیے اور صبر و استقامت کا دامن تھامنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مظلوموں کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔