بعثتِ نبوی: اللہ تعالیٰ کا عظیم ترین احسان و فضل
آپ نے قرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا:
﴿لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةِ﴾
اللہ تعالیٰ نے خود نبی کریم ﷺ کی بعثت کو اپنے عظیم فضل و احسان کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی تشریف آوری کو اپنے فضل و احسان سے تعبیر فرمایا تو آپ ﷺ کی بعثت پر خوشی کا اظہار بھی اللہ تعالیٰ کے اس فضل کی قدر دانی ہے۔ اسی آیت میں آپ ﷺ کے مقصدِ بعثت کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کو اللہ کی آیات سناتے، ان کا تزکیہ فرماتے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ لہٰذا محفلِ میلاد میں جمع ہونا ایک طرف آپ ﷺ کی تشریف آوری پر خوشی کا اظہار ہے اور دوسری طرف آپ ﷺ کے مقصدِ بعثت، یعنی علم، تزکیہ اور ہدایت کے حصول کا ذریعہ بھی ہے۔
ذکرِ الٰہی اور نعمتِ نبوی پر صحابۂ کرامؓ کا اجتماع
آخر میں آپ نے صحیح مسلم کی مشہور حدیث «مَا أَجْلَسَكُمْ؟» کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے صحابۂ کرامؓ کو ایک جگہ جمع دیکھا تو دریافت فرمایا: ’’تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھایا ہے؟‘‘ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے، اس کی حمد بیان کرنے اور اس کے احسان پر شکر ادا کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی نعمتوں پر شکر اور نبی کریم ﷺ کی نسبت و ذکر کے لیے جمع ہونا صحابۂ کرامؓ کا بھی معمول اور مبارک طریقہ تھا۔
تقریبِ سعید کے معزز شرکاء
اس تقریب سعید میں محترم جناب ڈاکٹر ناصر خان (Collector Customs, Collectorate of Customs Enforcement Hyderabad - Sindh, Federal Board of Revenue, Government of Pakistan)، اور محترم جناب امان اللہ صاحب (Additional Collector Customs, Collectorate of Customs Enforcement Hyderabad - Sindh, Federal Board of Revenue, Government of Pakistan) کے علاوہ مختلف سرکاری ڈیپارٹمنٹس کے معزز آفیسرز، علمائے کرام اور ممتاز تاجر و سماجی شخصیات نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی۔
محفلِ میلاد و دورہ کسٹمز ہاؤس کے تصویری مناظر