نرم مزاجی اور حق بیانی میں توازن
آپ نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ بسا اوقات انسان رقیق القلب، نرم مزاج اور شفیق و رحمدل ہونے کی وجہ سے حق بیان نہیں کرتا؛ کبھی یہ خیال ہوتا ہے کہ کہیں کوئی مالدار شخص ناراض نہ ہوجائے، اور کبھی یہ خیال آڑے آتا ہے کہ کہیں رشتہ داری اور باہمی تعلقات متاثر نہ ہو جائیں، یا کہیں کسی ذریعے سے ملنے والا نذرانہ بند نہ ہوجائے یا حق بیان کرنے کی وجہ سے تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
حضرت خواجہ شاہ مفتی محمد محمود الوری رحمۃ اللہ علیہ کی جراتِ ایمانی
صاحبِ عرس جدِ امجد حضرت خواجہ شاہ مفتی محمد محمود الوری رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں انتہائی شفقت و محبت کے ساتھ ساتھ حق بیان کرنے، باطل کو باطل کہنے اور حرام کو حرام کہنے کی جرات بھی کمال انداز میں نظر آتی ہے۔
آپ کے ایک مرید نے حضرت کی دعوت کی۔ کھانا سامنے آیا تو دریافت فرمایا: ’’صاحبِ خانہ کہاں ہے اور کون ہے؟‘‘ سامنے آنے پر پوچھا: ’’میاں! کیا کام کرتے ہو؟‘‘ اس نے عرض کیا حضور زمینداری کرتا ہوں۔ فرمایا: ’’صحیح بات بتاؤ۔‘‘ اس نے عرض کیا کہ میں سود پر کام کرتا ہوں۔ حضرت نے نہایت شفقت کے ساتھ اسے سود کی حرمت سمجھائی اور قرآنِ کریم کی اس وعید کی طرف متوجہ فرمایا کہ اگر سود نہ چھوڑو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔ کلام و نگاہ کی تاثیر نے نہ صرف سودی کاروبار چھڑوا دیا بلکہ اس شخص کو عابد و تہجد گزار بنا دیا۔
واقعے سے نکتہ نکالتے ہوئے آپ نے مریدین و معتقدین کی تربیت فرمائی کہ حضرت اگر چاہتے تو خاموشی سے کھانا تناول فرما کر صاحبِ خانہ کو دعا دیتے، نذرانہ وصول کرتے اور چلے جاتے؛ لیکن آپ نے اس کے بجائے حق کو حق کہنے کا راستہ اختیار کیا اور باطل کو باطل کہنے کا ایسا شعور دیا کہ صرف صاحبِ خانہ کے دل کی دنیا ہی نہ بدلی بلکہ حاضرین میں سے بعض نے لکھ کر اور بعض نے بیان کر کے اگلی نسلوں کو یہ شعور دیا کہ حق کیا ہوتا ہے اور باطل کیا ہوتا ہے۔
پھر آپ نے اس واقعے پر صحیح بخاری و مسلم کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس تاریخی واقعے کو ذکر کیا جس میں آپ نے منکرینِ زکوٰۃ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمیت تمام امت کو یہ احساس دلایا کہ جس کو نبی ﷺ حق کہہ گئے ہیں وہ حق ہے اور جس کو نبی ﷺ باطل و غلط کہہ گئے ہیں وہ قیامت تک باطل اور غلط ہے۔
شرکت کرنے والی مقتدر علمی و سیاسی شخصیات
پروگرام میں ملک بھر سے جید علمائے کرام، مشائخ عظام اور ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی، جن میں نمایاں طور پر: ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر، لیاقت بلوچ، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب نعیمی، امیر مرکزی جماعت اہلسنت پیر میاں عبدالخالق قادری بھرچونڈی، پیر سعادت علی شاہ، پیر حبیب عرفانی، مفتی حنیف قریشی، میاں جلیل احمد شرقپوری، صاحبزادہ فائز محمود الازہری، ڈاکٹر خادم حسین خورشید الازہری، صاحبزادہ اویس سردار عالم، پیر غلام شبیر، حافظ نصیر احمد نورانی، سید فخیم الصیم مکان شریف، پیر سعید احمد نقشبندی، پروفیسر قمر زیدی، وفاقی وزیر ملک عبدالرشید، پارلیمانی سیکریٹری شیخ سعد وسیم، صاحبزادہ ممبر صوبائی اسمبلی اختر بادشاہ، چوہدری امجد میو، راؤ شہاب الدین، صاحبزادہ عاطر محمود الوری اور دیگر اکابرین شامل تھے۔
عرس مبارک کے تصویری مناظر